بنگلورو،30؍جولائی(ایس او نیوز) وزیر اعلیٰ ایچ ڈی کمار سوامی نے ریاست کے اعلیٰ سرکاری عہدیداروں کو تاکید کی ہے کہ ریاستی حکومت کی طرف سے عوامی فلاح کے لئے رائج منصوبوں کو عملی طور پر نافذ کریں اور تمام اضلاع میں لوگوں کو درپیش مسائل کی یکسوئی کے لئے عوام کی امنگوں کے مطابق کام کریں۔
آج ودھان سودھامیں ریاست کے تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں اور ضلع پنچایتوں کے چیف ایگزی کیٹیو افسروں کی دو روزہ کانفرنس سے مخاطب ہوکر وزیر اعلیٰ کمار سوامی نے کہاکہ ضلع اور تعلقہ سطحوں پر عوام کو جن مسائل کا سامنا ہے انہیں اسی سطح پر نپٹانے کے لئے انتظامیہ کو مستعد رہنا چاہئے۔ ان قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہاکہ ریاستی حکومت غیر مستحکم ہے، وزیر اعلیٰ نے واضح کردیا کہ یہ حکومت پانچ سال کے لئے بنی ہے، اگر کسی کو یہ خدشہ ہے کہ یہ حکومت گر جائے گی اسی لئے وہ اپنی من مانی کرسکتا ہے تو وہ اس کی خام خیالی ہے۔ انہوں نے کہاکہ کانگریس اور جنتادل (ایس) نے ریاست کا اقتدار عوام کی بھلائی کے لئے حاصل کیا ہے، انتظامیہ کو سنبھالے ہوئے تقریباً تین ماہ کا عرصہ گزر رہا ہے۔ اب بھی یہی قیاس آرائیاں ہیں کہ یہ حکومت رہے گی یا گرے گی درست نہیں۔ حکومت اب عوام کی امنگوں کے مطابق کام کرنے کے لئے کمر بستہ ہوچکی ہے، اسی لئے سرکاری افسربھی حکومت کے ساتھ قدم سے قدم ملاکر عوام کی مفادات کی خاطر کام کرنے آگے آئیں۔
وزیر اعلیٰ نے تمام ڈپٹی کمشنروں کو آواز دی کہ مہینے کا ایک ہفتہ وہ ضلع کے مختلف تعلقوں میں گزاریں اور وہاں عام لوگوں کے مسائل جان کر انہیں سلجھانے کی کوشش کریں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی طرف سے جاری فروغ ہنر منصوبوں کے تحت بے روزگار نوجوانوں کی نشاندہی کرکے ان کی تربیت کا انتظام کیا جائے اور انہیں خود روزگار اپنانے میں حکومت کی طرف سے مدد دی جائے۔ انہوں نے کہاکہ ریاستی عوام کی فلاح کے لئے حکومت نے جو منصوبے جاری کئے ہیں ان کے نفاذ میں ناکامی اور حکومت کی نیک نامی کو متاثر کرنے کی کوئی بھی کوشش ناقابل برداشت ہے۔ جو افسر عوام کی امنگوں کے مطابق کام کریں گے حکومت ہمہ ان کے تحفظ کے لئے کھڑی رہے گی۔ وزیراعلیٰ نے سخت الفاظ میں کہا کہ سرکاری پروگراموں کے نفاذ میں سیاست نہ کی جائے۔ کوئی بھی پروگرام جو عوام کی فلاح کے لئے حکومت کی طرف سے رائج کیاگیا ہے اسے صرف ایک پارٹی کے کارکنوں یا ایک طبقے تک محدود نہ رکھا جائے۔
وزیر اعلیٰ نے افسروں سے کہاکہ سرکاری ہاسٹلوں ،اقامتی اسکولوں اور اسپتالوں کا ڈپٹی کمشنر غیر متوقع طور پر دورہ کریں اور وہاں کی بدنظمی کا جائزہ لے کر صورتحال کو سدھارنے کے لئے بروقت اقدامات کریں ۔ اگر فنڈز کی ضرورت پڑے تو اپنے پاس دستیاب فنڈز جاری کریں یا ریاستی حکومت کو تجویز روانہ کریں۔ کمارسوامی نے کہاکہ ریاست میں ترقیاتی کاموں کے لئے فنڈز کی کوئی کمی نہیں ہے۔ ٹیکس کی وصولی کو سختی انجام دینے کی تاکید کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہاکہ ٹیکس کی وصولی کے نظام میں اگر کوئی خامی پائی گئی تو اس کے لئے افسروں کو جواب دہ بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہنگامی صورتحال میں فنڈز کی فراہمی کے لئے ہر ضلع کے ڈپٹی کمشنر کو 43 کروڑ روپیوں کی افزود رقم مہیا کرائی گئی ہے۔
انہوں نے کہاکہ پرائمری اسکولوں سے لے کر ڈگری کالجوں تک ریاست بھر میں اگر کوئی اسکول یا کالج بوسیدہ ہو ں تو ان کی مرمت کے لئے ایک ہزار کروڑ روپیوں کی رقم مہیا کرائی گئی ہے۔اس رقم سے 108 ڈگری کالج ، لیباریٹری کی تعمیر اور ان کالجوں میں لکچراروں کا تقرر کیا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ نے کہاکہ کسی بھی ضلع میں سڑک کی توسیع ، اسکول، اسپتال یاہاسٹل کی تعمیر کے لئے زمین درکار ہے تو ڈپٹی کمشنر فوری طور پر یہ زمین مہیا کرائیں۔ ریاست بھر میں 4000 کلومیٹر پر مشتمل قومی شاہراہ کی تیاری کے لئے زمین اکوائر کرنے کے عمل کو فوراً پورا کیا جائے ۔ انہوں نے کہاکہ ریاستی حکومت اس بات سے واقف ہے کہ سرکاری افسروں کی تعداد کم ہے اس کے باوجود بھی افسر انتظامیہ کو بہتر طریقے سے چلانے میں تعاون کررہے ہیں اس کے لئے حکومت ان کی شکر گزار ہے۔ انہوں نے کہاکہ شہری اور دیہی علاقوں میں سائٹ اور مکانوں کی فراہمی کے لئے درکار زمین کی نشاندہی کرکے ایک دو ماہ میں حکومت کو رپورٹ روانہ کی جائے۔
اس موقع پر نائب وزیراعلیٰ ڈاکٹر جی پرمیشور نے حکومت کے استحکام کو لے کر کی جارہی قیاس آرائیوں پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے افسروں کوآڑے ہاتھوں لیا اور کہاکہ اگر وہ سوچتے ہیں کہ یہ حکومت گرنے والی ہے اسی لئے انہیں اس حکومت کا جوابدہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے تو یہ ان کی خام خیالی ہے۔اگر ایسا رویہ کسی افسر نے اپنایا تو ٹھیک نہیں ہوگا۔ پرمیشور نے کہاکہ سرکاری پروگراموں کے نفاذ کی ذمہ داری افسروں پر عائد ہوتی ہے، اس ذمہ داری سے غفلت دھوکہ دہی کے مترادف ہے۔ کسی بھی حال میں حکومت اپنے فرض سے غافل افسروں کو نہیں بخشے گی۔ انہو ں نے کہاکہ تعلقہ اور ضلع سطح کی اسپتالوں میں سہولتوں کی قلت کا ڈپٹی کمشنر س خود پہنچ کر جائزہ لیں اور حالات کو بہتر بنانے کے لئے ضروری قدم اٹھانے کے ساتھ زیادہ فنڈز خرچ کرنے کی صورت میں حکومت سے مدد لیں۔ انہوں نے کہاکہ پچھلے کئی برسوں سے کرناٹک ملک کی ترقی پرور ریاست میں رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں بھی یہی صورتحال نہ صر ف برقرار رہے گی بلکہ ترقی کے میدان میں کرناٹک کے موقف کو اور بھی بلند کرنے کی جدوجہد کی جائے گی۔
انہوں نے کہاکہ ریاست کے تمام محکموں میں 31 ایسے محکمے ہیں جن کی کارکردگی کی بنیاد پر کرناٹک پورے ملک میں سر فہرست ہے۔ سڑکوں ، ٹرانسپورٹ نظام میں سدھاراور دیگر شعبوں میں کرناٹک نے جو پیش رفت حاصل کی ہے اس کا ثمر دیہی عوام کو ملنا چاہئے۔ نائب وزیر اعلیٰ نے جن کے پاس داخلہ کا قلمدان بھی ہے شہری علاقوں میں منشیات کے استعمال کے عام ہوجانے پر تشویش کا اظہار کیا اور کہاکہ پولیس کی طرف سے منشیات کی تجارت میں مصروف عناصر کے خلاف سخت کارروائی کا سلسلہ شروع کیاگیا ہے، آنے والے دنوں میں ریاست کے کسی بھی شہر میں منشیات کی فروخت نہ ہو یہ یقینی بنایا جائے۔ نائب وزیراعلیٰ نے کہاکہ شمالی کرناٹک کے بعض اضلاع میں بارش کی قلت کے سبب پینے کے پانی کا مسئلہ سامنے آیا ہے۔حکومت اسے نپٹانے کے لئے کوشاں ہے۔ میٹنگ میں ریاستی وزراء آر وی دیش پانڈے، جی ٹی دیوے گوڈا، یوٹی قادر ، ضمیر احمد خان، پریانک کھرگے، شیوانند پاٹل، ڈاکٹر جئے مالا، ایچ ڈی ریونا، کے جے جارج، چیف سکریٹری وجئے بھاسکر، تمام محکموں کے اڈیشنل چیف سکریٹری ، پرنسپل سکریٹری، سکریٹری، ڈویژنل کمشنرس ، تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرس ، ضلع پنچایتوں کے چیف ایگز ی کیٹیو افسر اور دیگر اعلیٰ افسر موجود تھے۔